پٹنہ20اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آج ملک کی 25کروڑ سے زائد مسلم آبادی عجیب کشمکش اوردردناک صورتحال کے مرحلہ سے گزررہی ہے۔سنگھ پریوار مذہبی منافرت پھیلاکر نہ صرف مسلمانوں کو تنگ وتباہ کرنے پرآمادہ ہے بلکہ معاشراتی طورپر اسلامی شناخت کو مٹانے کے درپے ہے۔ جنتادل راشٹروادی کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنما اشفاق رحمن سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا موجودہ صورتحال میں ہمیں خاموشی اختیار کر لینی چاہئے یا اس جمود کو توڑنے کیلئے سرگرم طورپر آگے آناچاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ 70برسوں کی آزادی میں تمام سیاسی جماعتوں نے قوم کی ترقی کے نام پر صرف دھوکہ ہی دیاہے۔اس لئے اب ضرورت آن پڑی ہے کہ مسلمانوں کوبھی متحد ہوکر اپنی سیاسی بقا کی لڑائی خود لڑنی چاہئے۔ انہوں نے غیر وں کی بیساکھی کوچھوڑکر اپنے قوت بازو پر بھروسہ کر نے کی تلقین کی ہے۔ ا شفاق رحمان کہتے ہیں کہ تما م مسئلوں کاحل صرف اپنی سیاست اور اپنی قیادت میں پنہا ہے ۔معاشی ،سماجی اور سیاسی حالات کوبدلنے کیلئے اپنے اندر سے قیادت کانکالنا انتہائی ضروری ہوگیاہے۔ آج کی تاریخ میں ہماری کہیں لیڈرشپ نہیں ہے۔ نہ ایوانوں میں اور نہ ایوانوں سے باہر ۔یہی سبب ہے کہ ریاستی اورملکی سطح پر مسلمانوں کی کوئی وقعت یاوجود نہیں رہ گیاہے۔ آج مسلمانوں کے سامنے اپنے وجود کو بر قر ار رکھنے اور منوانے کا بھی سنگین مسئلہ ہے۔ جبکہ دوسر ی قوموں میں یہ مسئلہ نہیں ہے۔ چونکہ ہماری قوم زیادہ بقراط ہے اس لئے اب تک ایک لیڈرپیدا نہیں کرسکی۔ دوسری قوموں میں قیادت کاہونا نہیں ہے ۔لنگڑا، لولہا قیادت کو تسلیم کرنے میں بھی دوسری قومیں مسلمانوں کی طرح بقراطی نہیں دیکھاتی۔جبکہ ہمارے یہاں فرشتہ صفت لیڈر کاانتظار 70سال سے کیاجارہاہے اور آج تک ایک قائد ہم نہیں چن سکے۔فرشتہ صفت لیڈر ممکن نہیں ہے۔موجودہ قوم کے اندر سے ہی لیڈرشپ کو پیدا کرناہوگا۔خوش آئند پہلو یہ ہے کہ لیڈرشپ کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال میں ہرشخص کو قائد ہونے کادعویٰ کرناچاہئے اور قائدانہ صلاحیتوں کے پیش نظر قوم کوبھی بلاتاخیرقائدتسلیم کرلیناچاہئے۔آج ایک ایسا قائد،ایسی قوم، ایک ایسی پارٹی، ایک ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو مفلوک الحال ، منتشر خیال ،بے سمت اور پست ہمت امت مسلمہ کو منظم اورمستحکم بناکر انہیں نیاحوصلہ دے کر ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اجتماعی اور منصوبہ بند جدوجہد کیلئے تیارکرے اور سما جی ، سیاسی، تعلیمی اورمعاشی وسیاسی میدان میں مسلمانوں کو فیصلہ کن امت کی حیثیت سے کھڑا کرسکے۔